Live

غزل
اپنا سمجھ کے آپ سے اُلجھے کبھی نہیں
جلتے ہیں روز آگ میں بھڑکے کبھی نہیں
جب آپ کا خیال بھی اوروں کی اُور تھا
ہم بھی متاع جان سے گُزرے کبھی نہیں
دل میں تو آندھیوں کا بڑا خوف تھا مگر
اُس نے جلائے دیپ جو بُجھتے کبھی نہیں
کہتے ہیں صاف صاف جو کہنے کی بات ہو
کینہ کسی کی ذات سے رکھتے کبھی نہیں
خاصا کرم خدا کا ہے ثابت قدم جو ہیں
ہم ٹُوٹتے تو روز ہیں بکھرے کبھی نہیں
نکلے جو ہم حدود سے بھاگے حدود میں
میٹھی زباں یہ لوگ بھی سمجھے کبھی نہیں
جن کی زبان تیر ہو ہتھیار ہاتھ ہوں
شاکر خدا کی مار سے بچتے کبھی نہیں
سلامت شاکر ساہیوال
